نگران وفاقی وزیر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے ” یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام ” کو ملک بھر میں فروغ دینے کی ضرورت ہے ، نیوٹیک کا ادارہ لوگوں کو بنیادی ہنر مندی کی تعلیم دے رہا ہے،ہمارے پاس تجربات کرنے کا اب کوئی ٹائم نہیں،شعبہ تعلیم میں اچھی بنیاد رکھ کر جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں یونیورسٹی آف لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن(نیوٹیک)کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد اورنیوٹیک لاہور کی ڈائریکٹر آصفہ مقبول سمیت یونیورسٹی آف لاہور کے مختلف شعبوں کے پروفیسرز اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔
نگران وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر مدد علی سندھی نے کہا کہ اس وقت سادہ تعلیم کی کوئی وقعت نہیں بلکہ دنیا بھر میں فنی تعلیم کی بہت اہمیت ہے لہذا ہماری جامعات کو ہنر مندی کی تعلیم کی طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے، مجھے یہ جان کر خوشی ہو ئی ہے کہ نیوٹیک ادارہ اس وقت پنجاب میں 90 ہزار کے قریب افراد کو ہنر مندی کی تعلیم دے رہا ہے، اسی طرح ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی فنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین میں میٹرک کے بعد طالب علم سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اب ہنر مندی کے کس شعبے میں جانا چاہتا ہے ، چین میں پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان بلٹ ٹرین چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اب اتنا زیادہ وقت نہیں کہ ہم اسے تجربات میں گزاردیں ، ہنر مندی کی تعلیم کے سوا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے،ہم کب تک دوسروں پر انحصار کرتے رہیں گے ،ہمیں اپنے پائوں پر خو د کھڑا ہونا ہو گا اور خودانحصاری کے پروگرام پر عمل کرنا ہو گا، اللہ تعالی نے پاکستان کو ہرقسم کے وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ کو ئی اچھا کرکے جائیں تاکہ آنے والوں کیلئے آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لاکھوں بچے سکول نہیں جاتے یہ وہی بچے ہیں جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتے ہیں اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،ایسے بچوں کو سکولوں کی طرف راغب کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو اپنامعیار تعلیم بہتر کرنا ہو گا اور ہنر مندی کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کا معیار مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جو بچے سکولوں سے باہر ہیں انہیں واپس لانا ہو گا، اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس موقع پروائس چانسلر یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف نے کہا کہ ہماری یونیوسٹیاں اپنے طالب علموں کو ایسے مضامین پڑھانے چاہئیں جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں اہمیت ہو،جتنے زیادہ پروفیشنل ڈگری کے حامل افراد بیرون ممالک کام کیلئے جائیں گے اتناملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہو گا۔










