پنجابی زبان کے فروغ کیلئے سماجی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے، ڈاکٹر شاہد منیر

لاہور ( اے پی پی۔ 31 جنوری2024ء) چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ پنجابی زبان کے فروغ کیلئے سماجی رویوں میں تبدیلی لانابہت ضروری ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچرل سٹڈیزکے زیر اہتمام پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز، آرٹ اینڈ کلچر لاہور کے تعاون سے پنجابی: بطور تعلیم اور کلچر کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی پنجابی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے شیرانی ہال اولڈ کیمپس میں خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، ڈائریکٹر پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان، ڈاکٹر جگموہن سانگا،سردار عجائب سنگھ چٹھہ،سینئر صحافی مدثر اقبال بٹ، سابق چیئرمین پی ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین،فیکلٹی ممبران، طلبا طالبات سمیت کینیڈا، امریکہ، انگلینڈ اور ترکی سے آئے سکھ و دیگر ماہرین پنجابی نے شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ پنجاب دنیا میں اس لحاظ سے مختلف خطہ ہے یہ یہاں سر سبز اور لہلاتے کھیت ہیں لیکن بدقسمتی سے لوگ غربت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ترقی صنعتوں کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ادارے قائم کرنے کی بجائے پہلے سے قائم اداروں کی کارکردگی کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پنجابی زبان پر فخرہوناچا ہیے۔

انہوں نے کہا کہ زمین تقسیم ہوسکتی ہے مگر کلچر نہیں بدلا جا سکتا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ کسی بھی مشکل معاملے کو مادری زبان میں سمجھنا آسان ہو تا ہے اور ہمیں پنجابی زبان بولنے میں احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ایران میں کسی سرکاری اجلاس میں انگریزی نہیں بولی جاتی اور ترقی یافتہ قومیں اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ کسی ذہنی غلامی کا شکار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر جگ موہن سنگھ نے کہا کہ کینیڈا میں پنجابیوں کی عزت اور احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی کینیڈین پارلیمنٹ کے ممبر ہیں اور اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی محنت کرکے کسی بھی ملک میں ترقی کرتے ہیں اور کینیڈا میں پنجابی زبان کی بہت سی تنظیمیں ہیں۔ ۔ ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کہا کہ زبانیں ایک دوسرے میں رچتی بستی چلی جا رہی ہیں۔
ا نہوں نے کہا کہ پنجاب صدیوں سے ہنر مندوں کی زمین رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ پنجاب کی مٹی زرخیز ہونے کے باوجود اربوں ڈالر کی زرعی اجناس امپورٹ کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سب سے زیادہ پڑھا لکھا خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر شہراور قصبے کی اپنی پہچان اور اپنا معاش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی اقدار کو سنبھالنے والے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔
مدثر اقبال بٹ نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی زبان کے فروغ کے لئے اب عملی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی زبان کو تعلیمی زبان بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مقامی زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک پنجابی کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
مدثر اقبال نےمزید کہا کہ پنجابی صوفیا کرام کی تعلیمات اچھا انسان پیدا کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
سردار عجائب سنگھ چٹھہ نے کہا کہ اخلاقی اقدار سکھانے کا تعلیم کے ساتھ بہترین انسان پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ ترکی، چین،کوریااور جاپانی اپنی زبانوں میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادری و قومی زبان کے فروغ کے لئے ترجمے کے شعبے کوفروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس بروز بدھ (آج) بھی جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں