کھربوں ڈالر کی تجارت اور بحیرہ احمر کا بحران: دنیا کے بڑے تجارتی بحری جہازوں کا رُخ موڑنا کتنا مہنگا ثابت ہوتا ہے؟

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے سینکڑوں مال بردار بحری جہاز اور آئل ٹینکرز افریقہ کے جنوبی سرے ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ کا متبادل بحری راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ لیکن کیا دنیا کے بڑے بڑے تجارتی مال بردار بحری جہازوں کا رُخ موڑنا کوئی آسان کام ہے؟
رواں ماہ 17 جنوری کو امریکہ کے بڑے مال بردار بحری جہاز ’ایم وی جنکو پیکارڈی‘ کو بحیرہ احمر میں حوثی جنگجوؤں نے خودکش ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
یہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے تازہ ترین مثال ہے۔ بحیرہ احمر دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے لیکن اب یہ گزرگار حوثیوں کے حملے کی وجہ سے یقیناً بہت خطرناک بن چکی ہے۔
گذشتہ سال نومبر کے مہینے سے یمن کے حوثی جنگجو آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بحری گزرگاہ 20 میل (32 کلومیٹر) پر محیط ہے جو یمن کو شمال مشرقی افریقہ سے علیحدہ کرتی ہے۔
null
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر سے گزرنے والے مال بردار تجارتی بحری جہازوں پر حملوں نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ حوثی باغی یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کے بعد حوثی باغیوں نے اسرائیل سے آنے اور وہاں جانے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بہت سے بڑی کارگو تجارتی کمپنیاں اپنے جہازوں کا رُخ موڑنے یا انھیں روکنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں سے بچانے کے لیے متبادل راستوں سے گزرنے پر مجبور کیا گیا تو پیٹرولیم مصنوعات سمیت، الیکٹرانک آلات اور ٹرینرز (جوتے) جیسی روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے ’باب المندب‘ میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کے بعد جہاز رانی کی بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے بہت سے جہازوں کو اس راستے سے لے جانے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔
بحیرہ احمر کا یہ راستہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق فی الحال دنیا کی تجارت کا 12 فیصد حصہ بحیرہ احمر کے شمالی سرے پر موجود نہر سویز سے گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ وہاں سے گزرنے والے سامان تجارت میں دنیا کے 30 فیصد کنٹینرز بھی شامل ہیں۔

حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کے بعد بحیرہ احمر کے راستے شپنگ معطل کرنے کا اعلان کرنے والی کمپنیوں میں اب تیل کی بڑی کمپنی ’برٹش پٹرولیم‘ بھی شامل ہو گئی ہے۔

اس سے قبل ’میئرسک‘ جیسی دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اس اہم تجارتی راستے سے اپنے بحری جہازوں کے سفر کو معطل کر دیا ہے۔

حوثی باغیوں کے جانب سے یہ حملے اکتوبر کے اوائل میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی کارروائی کے جواب میں غزہ میں اسرائیلی فوجی حملوں کا نتیجہ ہیں کیونکہ حوثیوں نے حماس کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں