عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں قید کی سزا: آخر معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا اور اب آگے کیا ہو گا؟

پاکستان میں ایک خصوصی عدالت نے ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس، دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

منگل کو اڈیالہ جیل میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا سُنائی ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق خصوصی عدالت کے جج اس کیس کا مختصر فیصلہ سُنا کر چلے گئے جب کہ فیصلہ سنانے سے قبل فریقین کو حتمی دلائل دینے کی مہلت نہیں دی گئی۔

عمران خان کی جماعت نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی کے ترجمان رؤف حسن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’بانی چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے نہایت بے رحمی سے انصاف کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔‘

اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو اس سزا کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے کیا کیا قانونی آپشنز میسر ہیں؟ مگر اس سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ سائفر کیس ہے کیا اور یہ معاملہ سابق وزیراعظم کو سزا دینے تک کیسے پہنچا؟

عمران خان کو سزا کے بعد قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی اپنی سزاؤں کے خلاف ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر سکتے ہیں۔

سینیئر وکیل عبدالمعیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ٹرائل کے اختتام کے بعد جو عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف الزامات تھے انھیں میرٹس پر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے خلاف یہ الزامات بنتے تھے یا نہیں اور ان کے خلاف ٹرائل کورٹ نے ثابت کیسے کیا ہے اور کس معیار پر کیا ہے، ان تمام چیزوں کا اعلیٰ عدالتوں میں ازسرِنو جائزہ لیا جا سکے گا۔‘

عبدالمعیز جعفری کہتے ہیں کہ ’میری نظر میں یہ الزامات اپیل کے امتحان میں شاید ثابت نہ ہو پائیں۔‘

’میرے خیال میں اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے عجلت سے کام لیا اور غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ صرف چند ہی گھنٹوں میں بہت سارے گواہوں کو دیکھا گیا جس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور ویگر وکلا نے احتجاج بھی کیا تھا۔‘

عبدالمعیز جعفری کے مطابق عمران خان نے بھی تیز رفتاری سے ہونے والی عدالتی کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور رپورٹس کے مطابق وہ عدالت چھوڑ کر بھِی چلے گئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جب اعلیٰ عدالتوں میں کیس جائے گا تو یہ معاملہ بھی زیرِ غور آئے گا کہ اس مقدمہ کو کس انداز میں چلایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے قبل دو مرتبہ اعلی عدالتیں اس (خصوصی) عدالت کو ازسرِنو کام کرنے کا حکم دے چکی ہیں کیونکہ اس کے کام کرنے کے بنیادی طریقے پر سوالیہ نشانات تھے۔‘

عبدالمعیز جعفری کا کہنا تھا کہ ’جو سیکشن 5 ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا، جو کہ غفلت برتنے پر آپ کو سزا دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ دو سال سے 14 سال تک سزا ہوسکتی ہے آپ کو اگر آپ کسی حساس دستاویز کو غفلت سے ہینڈل کریں یا یہ آپ کی غفلت برتنے سے وہ گُم ہو جائے۔‘

’لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ اس حساس دستاویز میں ایسا کوئی کوڈ ہو یا اس کو بنانے میں ایک ایسی تکینک استعمال کی گئی ہو جو اگر دشمن کہ ہاتھ لگ جائے تو آپ کا سکیورٹی انفراسٹرکچر کمپرومائز ہو سکتا ہے۔ یہاں پر یہ مسئلہ ہے ہی نہیں کیونکہ عمران خان کو جو کاپی ملی تھی وہ ڈی سائفر ہونے کے بعد ملی تھی اور اس میں کوئی خفیہ زبان نہیں تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت نے کس بنیاد پر عمران خان کو سزا سنائی اور قانونی تقاضوں کو کیسے پورا کیا اس کے لیے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل صلاح الدین احمد بھی سمجھتے ہیں کہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم عدالت کے فیصلے پر متعدد سوالات اُٹھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں وکلاِ صفائی کو تبدیل کر کے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ وکیلِ صفائی کو لانا، یہ سوال کھڑا کرے گا کہ کیا ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا گیا یا نہیں؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’عدالت کہ پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ وہ ملزمان کے لیے وکیل مقرر کرے لیکن یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ملزمان اپنے وکیل کو خود مقرر کرنے سے انکار کردے یا پھر ملزمان کے وکیل عدالت کے سامنے پیش نہ ہوں۔‘

عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بظاہر جس جلدی میں فیصلہ سنایا گیا اور اچانک جس طرح سے ٹرائل کو مکمل کیا گیا اس سے اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں