ایس اے زاہد

بلاعنوان.. ایس اے زاہد

سیاسی جماعت کے نام پر بعض لوگ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت اور ریاست کو بدنام کرنے کے ایجنڈے پر بدستور عمل پیرا ہیں۔ گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ملک کے نامور علما اور مشائخ سے ملاقات کی۔ جس میں آرمی چیف نے ریاست کے حوالے سے اپنے موقف اور خیالات کا اظہار کیا جبکہ علما کرام اور مشائخ عظام نے بھی کھل کر اپنے خیالات سے آرمی چیف کو آگاہ کیا۔یہ ایک بالمشافہ ملاقات تھی جس میں آرمی چیف نے فرداً فرداً سب سے مصافحہ کیا اور بات چیت کی۔

اس ملاقات میں کھل کر اظہار خیال کرنے اور علما ومشائخ کو دی گئی عزت واحترام پر سب نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں بڑی عزت وتکریم سے ہوئی لیکن ایک نام نہاد سیاسی جماعت نے،جس کو سیاسی جماعت کے بجائے سوشل میڈیا گروپ کہنا زیادہ درست ہوگا، آرمی چیف اور علما ومشائخ کے درمیان اس پر اثر اور خوشگوار ملاقات کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس ملاقات میں شامل علما ومشائخ نے اس مکروہ کوشش کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ اس گروہ نے اس جھوٹ کو پھیلانے کی ناکام کوشش کے بعد فلسطین پر اسرائیلی ناپاک اور غیر انسانی یلغار کے بارے میں پاکستان کیخلاف ایک اور ناپاک ، گمراہ کن اور ملک دشمن پرو پیگنڈہ مہم کی کوشش کی۔

پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے موقف کی حمایت کی ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی بربریت کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اپنا وزن ہر موقع پر فلسطینیوں کےپلڑے میں ڈالا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کو ظلم وبربریت قرار دیا ہے اور فلسطینی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوکر مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اسرائیل کو مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے سے روکے۔ پاکستان نے مشکل وقت میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں کیلئے بھاری امدادی سامان بھی بھیجا ہے۔ پاکستان اخلاقی اور سفارتی سطح پر فلسطینیوں کا جتنا ساتھ دےرہا ہے وہ فلسطینی خوب جانتے ہیں۔ لیکن اس ملک دشمن گروہ کا مقصد جھوٹا پروپیگنڈا کرکے پاکستان کو بدنام کرنا ہی ہے۔ قوم اس گروہ کے مکروہ، ناپاک ، ملک دشمن اور جھوٹے پروپیگنڈوں پر سراپا سوال ہے کہ آخر اس نام نہاد سیاسی جماعت پر پابندی لگانے میں کیا رکاوٹ حائل ہے اور کوئی بھی رکاوٹ ہے تواس دیوار کو کیوں نہیں گرایا جاتااور اس جماعت کے فتنہ پروروں کے خلاف کیا کیسز ہی چلتے رہیں گے یا ان کو قرار واقعی سزائیں بھی ملیں گی۔ کیاان کو ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کیلئے کھلا چھوڑنے کا عمل یوں ہی جاری رہے گا ۔کیا ان لوگوں کے اقدامات ریاست کے خلاف نہیں ہیں۔ اگر ان کے سیاہ کرتوتوں اور اقدامات کو ریاست کے خلاف دہشت گردی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

ملک میں آئندہ سال8فروری کو الیکشن کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو الیکشن پر اربوں روپے خرچ کرنے کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا۔ جمہوریت میں عوام فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کس کی حکومت چاہتے ہیں اور یہ فیصلہ وہ اپنی رائے یعنی ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ آج کل اسٹیبلشمنٹ پر دبے الفاظ میں الزام لگایا جارہا ہے کہ گویا وہ کسی مخصوص شخص اور جماعت کو اقتدار دلانا چاہتی ہے۔ بعض تو یہ الزام اس حد تک یقینی بناکر پیش کرتے ہیں کہ فلاں شخص ہی اگلا وزیر اعظم ہے۔ ایسے الزام لگانے والوں کے پاس نہ کوئی ثبوت ہیں نہ ہی ان کے سامنے کسی نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ الزام لگانے والے اس ایک سوال کا جواب بھی دیں کہ کسی مخصوص شخص کو اقتدار دلانے میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا مفاد ہے۔ شاید اس کا جواب کسی کے پاس نہیں جو منطقی ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے بھلا کیا تعلق اور مفاد ہے۔ ان کا مفاد تو ریاست پاکستان سےہے۔ انہوں نے تو سیاستدانوں کو میدان فراہم کیا ہے کہ سب اپنے اپنے گھوڑے دوڑائیں پھر دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

یہ تو ماننا پڑے گا کہ امریکہ سپرپاور ہےکہ جب امریکہ اسرائیل کا پشت پناہ ہے تب ہی اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر چڑھ دوڑا ہے اور بچوں وخواتین سمیت بلا امتیاز تمام نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کا سرعام قتل عام کررہا ہے۔ کسی ملک میں جرات نہیں کہ امریکہ کی زیر سرپرستی اسرائیل کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ سوائے چند غیر مسلم اور وہ بھی چھوٹے ممالک کے کوئی مسلمان ملک اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا تو دور کی بات سفارتی اور تجارتی تعلقات ہی ختم کردے۔ بھارت اپنے ہی اقلیتی شہریوں بالخصوص مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں پر عرصہ دراز سے ظلم ڈھارہا ہے۔ دہشت گردوں کی ہر قسم کی معاونت کررہا ہے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرسکیں۔یہ سب کچھ پاکستان،اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں بشمول امریکہ کے علم میں متعدد بارلاچکا ہے لیکن امریکہ اور مغربی ممالک نے عملی طور پر کبھی بھارت کو روکنے کی کوشش نہیں کی ورنہ بھارت کوان تمام گھنائونی حرکتوں سے باز رکھنےکیلئے امریکہ کا ایک الٹی میٹم ہی کافی ہے۔

اب پاکستان میں الیکشن کے اعلان کے بعد امریکہ اور برطانیہ متحرک ہوگئے ہیں۔ ان ممالک کے سفیروں نے بڑی جماعتوں کی قیادتوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ آخر ان دوممالک کے سفرا کیوں پاکستانی سیاستدانوں سے الیکشن کے اعلان کے بعد ملاقاتیں کررہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں سیاست اور اقتدار کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں ۔ایسے میں پھر ووٹ کو عزت دو، الیکشن کرائو وغیرہ کا ڈرامہ رچانے کا مطلب قوم کا پیسہ ضائع کرانا اور قوم کو دھوکہ دینے کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ جس میں ملک وقوم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں