اسلام آباد (16.02.2024 )پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مل کر حکومت بنانے کے فیصلے کے بعد اب آئینی عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے مشاور کا آغاز بھی کر دیاہے جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے مضبوط امیدواروں کے نام سامنے آ گئے ہیں ، چیئرمین سینیٹ کیلئے ن لیگ کے اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ جبکہ قومی اسمبلی کے سپیکر کیلئے پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف مضبوط امیدوار ہیں ۔
نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ پیپلز پارٹی نے سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر نظریں جما لی ہیں لیکن ڈپٹی سپیکر کا عہدہ ن لیگ کو ملے گا۔ پیپلزپارٹی میں سپیکر کے عہدہ کیلئے سا بق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مضبوط امیدوار ہیں تاہم مو جودہ سپیکر راجہ پرویز اشرف بھی دو بارہ اسپیکر شپ لینے کے خواہش مند ہیں اور وہ آصف علی زرداری کے بہت قریب بھی سمجھے جاتے ہیں تاہم پارٹی ذ رائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے امکانات زیادہ ہیں۔مسلم لیگ ن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی پر نظریں جمالی ہیں اور روایت یہ ہے کہ پنجاب سے اسپیکر ہو تو ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا سے لیا جا تا ہے۔
اس سے قبل مرتضیٰ جاوید عبا سی، فیصل کریم کنڈی اور زاہد اکرم درانی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن سے ن لیگ کے کامیاب امیدوار سردار محمد یوسف کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کا امکان ہے۔ن لیگ کےمرتضیٰ جاوید عباسی نشست ہارنے کے بعد سردار یوسف ڈپٹی اسپیکر کے مضبوط امیدوار بن گئے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے چیئر مین سینیٹ کا عہدہ مانگ لیا ہے، چیئرمین سینٹ کا عہدہ ن لیگ کو ملے گا۔وزیر خز انہ نہ بننے کی صورت میں اسحاق ڈار چیئر مین سینیٹ کیلئے امیدوار ہونگے، بصورت دیگر اعظم نذیر تارڑ امیدوار ہوں گے اور روایت ہے کہ ڈپٹی چیئر مین سینٹ کا عہدہ بلوچستان کو دیا جا تا ہے۔اس عہدے پر مو لا نا عبد الغفور حیدری، جان جمالی، صابر بلوچ اور نور جہان پانیزئی فائز رہ چکے ہیں۔ ذ رائع کے مطابق ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کا عہدہ اس مرتبہ بھی بلوچستان کو دیا جائے گا۔










